فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 205

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 205 کرتا ہے تو اس کی زکوۃ دے۔اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی ے۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 اپریل 1903 صفحہ 11) (۲۶۶) کسی شخص کو جو تجارتی روپیہ دیا جاوے اس کا منافع لینا ظہر کے وقت ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم نور الدین صاحب نے ایک مسئلہ حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں۔جن کے پاس ہیں بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کی اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں۔اور جو روپیہ آ وے وہ امانت رہے۔سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سورو پیدان کو منافع کا دید یا کرے گا۔یہ اس غرض سے یہاں فتوی دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو ان کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کر لی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔چونکہ انہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے اس لئے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔لہذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو ان کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں ) لیا جاتا ہے۔اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروز بر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔" الحکم نمبر 40 جلد 8 مؤرخہ 24 نومبر 1904 ، صفحہ 11 (۲۶۷) وزنوں کے باٹوں میں کمی بیشی ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی بر درس وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیر اسی روپیہ کا دیتے ہیں اور