فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 7

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 7 لکھے گئے۔" الحکم نمبر 41 جلد 6 مؤرخہ 17 نومبر 1902 ء صفحہ 2 (۳) حدیث کی ضرورت مولوی چکڑالوی کہتا ہے کہ حدیث کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ حدیث کا پڑھنا ایسا ہے جیسے کہ کتے کو ہڈی کا چسکا ہو سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ کا درجہ قرآن کے لانے میں اس سے بڑھ کر نہیں جیسا کہ ایک چپڑاسی یا مذکوری کا درجہ پروانہ سر کاری لانے میں ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔ایسا کہنا کفر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ کی بڑی بے ادبی کرنا ہے۔احادیث کو ایسی حقارت سے نہیں دیکھنا چاہئے۔کفار تو اپنے بتوں کے جنتر منتر کو یا در کھتے ہیں تو کیا مسلمانوں نے اپنے رسول کی باتوں کو یاد نہ رکھا۔قرآن شریف کے پہلے سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ ہی تھے اور اس پر آپ عمل کرتے تھے اور دوسروں کو عمل کراتے تھے۔یہی سنت ہے اور اسی کو تعامل کہتے ہیں اور بعد میں ائمہ نے نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس سنت کو الفاظ میں لکھا اور جمع کیا اور اس کے متعلق تحقیقات اور چھان بین کی۔پس وہ حدیث ہوئی۔دیکھو بخاری اور مسلم کو کیسی محنت کی ہے۔آخر انہوں نے اپنے باپ دادوں کے احوال تو نہیں لکھے۔بلکہ جہاں تک بس چلا صحت و صفائی کے ساتھ رسول الله عليلى السلم کے اقوال وافعال یعنی سنت کو جمع کیا اور اکثر حدیثوں مثلاً بخاری کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں برکت اور نور ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ علیل اللہ کے منہ سے نکلی ہیں۔مثلاً اِمَامُكُمْ مِنگم کی حدیث کیسی صاف ظاہر کرتی ہے کہ میسج تم میں سے ہوگا اور یہ عیسائیوں کا رد ہے کیونکہ عیسائی فخر کرتے تھے کہ عیسی پھر آئے گا اور دین عیسوی کو بڑھائے گا۔لیکن آنحضرت نے سنایا کہ ہم نے اس کو آسمان پر دیگر فوت شدہ لوگوں میں دیکھا اور پھر فرمایا کہ جو آنے والا مسیح ہے وہ اِمَامُكُمْ مِنكُمْ ہو گا۔غرض احادیث کے متعلق ایسا کلمہ نہیں بولنا چاہئے ہاں اس معاملہ میں غلو بھی نہیں کرنا چاہئیے کہ اس کو قرآن اور تعامل سے بڑھ کر سمجھا جائے۔بلکہ جو کچھ قرآن اور سنت کے مطابق حدیث میں ہو اس کو ماننا چاہئے کیونکہ جب حدیث کی کتا بیں نہ تھیں تب بھی لوگ نمازیں پڑھتے تھے