فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 6
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن نہیں چھوڑ سکتا۔ایسا ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ماتم کرنے سے مردہ کو تکلیف ہوتی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اخرى پس قرآن شریف پر حدیث کو قاضی۔بنانے میں اہلحدیث نے سخت غلطی کھائی۔اصل بات یہ ہے کہ اپنی موٹی عقل کی وجہ سے اگر کوئی چیز قرآن میں نہ ملے تو اس کو سنت میں دیکھو اور پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ جن باتوں میں ان لوگوں نے قرآن کی مخالفت کی ہے خودان میں اختلاف ہے۔ان کی افراط تفریط نے ہم کو سیدھی اور اصل راہ دکھا دی جیسے یہودیوں اور عیسائیوں کی افراط اور تفریط نے اسلام بھیج دیا۔پس حق بات یہی ہے کہ آنحضرت علی یا اللہ نے اپنی سنت کے ذریعہ تو اتر دکھا دیا اور حدیث ایک تاریخ ہے اس کو عزت دینی چاہئے۔سنت کا آئینہ حدیث ہے۔یقین پر ظن کبھی قاضی نہیں ہوتا کیونکہ ظن میں احتمال کذب کا ہے۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک قابل قدر ہے انہوں نے قرآن کو مقدم رکھا ہے۔" کتاب سنت اور حدیث فرمایا:۔الحکم نمبر 40 جلد 6 مؤرخہ 10 رنومبر 1902 ء صفحہ 5) " کتاب اللہ سب سے مقدم ہے جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔اور سنت کے معنی روش اور راہ کے ہیں یا دوسرے لفظوں میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ کا پاک عمل کہو۔جو کچھ آپ کو حکم ہوتا تھا آپ اسے کر کے دکھا دیتے تھے اس کر کے دکھا دینے کا نام سنت ہے۔ان لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ سنت اور حدیث کو ایک ہی قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں الگ ہیں۔اور اگر حدیث جو آپ کے بعد ڈیڑھ سو دو سو برس کے بعد لکھی گئی نہ بھی ہوتی تب بھی سنت مفقود نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ یہ سلسلہ تو جب سے قرآن نازل ہونا شروع ہوا ساتھ ساتھ چلا آتا ہے۔اور حدیث وہ اقوال ہیں جو رسول اللہ علب الا اللہ کے منہ سے نکلے اور پھر آپ کے بعد دوسری صدی میں علیہ