فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 8

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 8 اور تمام شعائر اسلام بجالاتے تھے۔پس قرآن شریف کے بعد تعامل یعنی سنت ہے اور پھر حدیث ہے جوان کے مطابق ہو۔مولوی محمد حسین نے پہلے اپنے رسالہ اشاعت السنتہ میں ایسا ہی ظاہر کیا تھا کہ جولوگ خدا سے وحی اور الہام پاتے ہیں وہ اپنے طور پر براہ راست احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔بعض وقت قواعد علم حدیث کی رُو سے ایک حدیث موضوع ہوتی ہے اور ان کے نزدیک صحیح اور ایک حدیث صحیح قرار دی ہوئی ان کے نزدیک موضوع۔غرض بات یہ ہے کہ قرآن اور سنت اور حدیث تین مختلف چیزیں ہیں۔" الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 اگست 1902 ، صفحہ 11) (۴) حدیث کی عظمت حدیث پر میرا مذہب ، اس پر حضرت اقدس نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا کہ:۔"میرا مذ ہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہئے۔کیونکہ یہ آنحضرت سے منسوب ہے۔جب تک قرآن شریف سے متعارض نہ ہو تو مستحسن یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔مگر نماز کے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے جو قرآن شریف سے مخالف نہ ہو۔" فرمایا:۔احکام نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 31 اکتوبر 1902، صفحه 1) (۵) حدیث کی اہمیت یہ ہم پر افترا کرتے ہیں کہ ہم حدیث کو نہیں مانتے حالانکہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کر لینا چاہئے اگر وہ قرآن کے معارض نہ ہو۔مگر وہ باوجود یکہ قرآن پر حدیث کو مقدم کرتے ہیں اور قاضی ٹھہراتے ہیں لیکن پھر بھی اس کی اتنی بڑی عزت نہیں کرتے۔چنانچہ حنفی رفع یدین کی حدیثوں کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان پر عمل بُرا سمجھتے ہیں اور انہیں بریکار چھوڑتے ہیں۔ایسا ہی دوسرے فرقوں کا حال ہے کہ وہ حدیث کی خود بھی عزت نہیں کرتے۔پھر احادیث کو وہ خود ظنی سمجھتے ہیں اور ظن وہ ہے جس میں احتمال کذب ہو۔پھر فن یقین ( کتاب اللہ ) پر حکم اور قاضی کس