فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 191

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 191 فرمایا:- (۲۴۵) متعه و نیوگ بعض آر یہ نیوگ کے مقابل پر اسلام پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں متعہ یعنی نکاح موقت جائز رکھا گیا ہے جس میں ایک مدت تک نکاح کی میعاد ہوتی ہے اور پھر عورت کو طلاق دی جاتی ہے لیکن ایسے معترضوں کو اس بات سے شرم کرنی چاہئے تھی کہ نیوگ کے مقابل پر متعہ کا ذکر کریں۔اول تو متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو۔پھر ماسوا اس کے متعہ اوائل اسلام میں یعنی اس وقت میں جب کہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کیلئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جواز اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھوکے کیلئے مردار کھانا نہایت بیقراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر متعہ ایسا حرام ہو گیا جیسے سور کا گوشت اور شراب حرام ہے اور نکاح کے احکام نے متعہ کیلئے قدم رکھنے کی جگہ باقی نہیں رکھی۔قرآن شریف میں نکاح کے بیان میں مردوں کے حق عورتوں پر اور عورتوں کے حق مردوں پر قائم کئے گئے ہیں اور متعہ کے مسائل کا کہیں ذکر بھی نہیں۔اگر اسلام میں متعہ ہوتا تو قرآن میں نکاح کے مسائل کی طرح متعہ کے مسائل بھی بسط اور تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں متعہ کے مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے موجود ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہر یک قوم میں جو ایک امر عامہ خلائق کے متعلق جائز یا واجب قرار دیا جاتا ہے تو اس امر کی بسط اور تفصیل سے مسائل بھی بیان کئے جاتے ہیں مثلاً نیوگ جو ہندوؤں میں ایک امر واجب العمل ہے تو ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 68,67 مطبوعہ نومبر 1984ء) لیکن قرآن اور حدیث کے دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگا کہ اسلام میں متعہ کے احکام ہرگز مذکور نہیں ، نہ قرآن میں اور نہ احادیث میں۔اب ظاہر ہے کہ اگر متعہ شریعت اسلام کے احکام میں سے یک حکم ہوتا تو اس کے احکام بھی ضرور لکھے جاتے اور وراثت کے قواعد میں اس کا بھی کچھ ذکر ہوتا۔پس