فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 190

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 190 جواب بجز لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین اور کیا دے سکتے ہیں۔ناظرین پر واضح رہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں۔چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جور و بنالے اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ وہ اس حیلہ کیلئے اس کو جور و بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور ائمہ اور علمائے سلف جیسے حضرت قتادہ ، عطا اور امام حسن اور ابراہیم نخعی اور حسن بصری اور مجاہد اور شعمی اور سعید بن مسیب اور امام مالک ، لیث ، ثوری، امام احمد بن حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور سب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب میں بھی زوج اس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جور و بنانے کیلئے تمام حقوق کو مدنظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے کیلئے ایک حیلہ ہو اور قرآن شریف میں جو آیا ہے حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہ اس کے یہی معنی ہیں کہ جیسے دنیا میں نیک نیتی کے ساتھ اپنے نفس کی اغراض کیلئے نکاح ہوتے ہیں ایسا ہی جب تک ایک مطلقہ کے ساتھ کسی کا نکاح نہ ہو اور وہ پھر اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے تب تک پہلے طلاق دینے والے سے دوبارہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔سو آیت کا یہ منشا نہیں ہے کہ جو رو کرنے والا پہلے خاوند کیلئے ایک راہ بناوے اور آپ نکاح کرنے کیلئے سچی نیت نہ رکھتا ہو بلکہ نکاح صرف اس صورت میں ہوگا کہ اپنے پختہ اور مستقل ارادہ سے اپنے صحیح اغراض کو مد نظر رکھ کر نکاح کرے ورنہ اگر کسی حیلہ کی غرض سے نکاح کرے گا تو عند الشرع وہ نکاح ہرگز درست نہیں ہوگا اور زنا کے حکم میں ہوگا۔لہذا ایسا شخص جو اسلام پر حلالہ کی تہمت لگانا چاہتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ مذہب نہیں ہے اور قرآن اور صحیح بخاری اور مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کی رو سے حلالہ قطعی حرام ہے اور مرتکب اس کا زانی کی طرح مستوجب سزا ہے۔" ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 67,66 مطبوعہ نومبر 1984ء)