فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 192

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 192 اس سے ظاہر ہے کہ متعہ اسلامی مسائل میں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اگر بعض احادحدیثوں پر اعتبار کیا جائے تو صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ جب بعض صحابہ اپنے وطنوں اور اپنی جورؤں سے دور تھے تو ایک دفعہ ان کی سخت ضرورت کی وجہ سے تین دن تک متعہ ان کیلئے جائز رکھا گیا تھا اور پھر بعد اس کے ایسا ہی حرام ہو گیا جیسا کہ اسلام میں خنزیر وشراب وغیرہ حرام ہیں اور چونکہ اضطراری حکم جس کی ابدیت شارع کا مقصود نہیں، شریعت میں داخل نہیں ہوتے۔اس لئے متعہ کے احکام قرآن اور حدیث میں درج نہیں ہوئے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے متعہ عرب میں نہ صرف جائز بلکہ عام رواج رکھتا تھا اور شریعت اسلامی نے آہستہ آہستہ عرب کی رسوم کی تبدیلی کی ہے۔سو جس وقت بعض صحابہ متعہ کیلئے بیقرار ہوئے سو اس وقت آنحضرت عبید اللہ نے انتظامی اور اجتہادی طور پر اس رسم کے موافق بعض صحابہ کو اجازت دیدی کیونکہ قرآن میں ابھی اس رسم کے بارے میں کوئی ممانعت نہیں آئی تھی۔پھر ساتھ ہی چند روز کے بعد نکاح کی مفصل اور مبسوط ہدایتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں۔اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت ثابت ہوگئی۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ گومتعہ صرف تین دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرت نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح موقت ہے کوئی حرامکاری اس میں نہیں، کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی عورت دوسرے سے ہمبستر ہو جاوے بلکہ در حقیقت بیوہ یا با کرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں ، اجتہادی طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دیدی۔لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صد با عرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اُٹھا دیا جاوے۔سو خدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا۔ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے۔نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت باوجود زندہ ہونے خاوند کے دوسرے سے ہمبستر کرائی جاتی ہے لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا ہے۔سو خو د سوچ لو کہ متعہ کو