فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 176
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 176 کہ کیا تو اس محنت میں مرجاوے گا حالانکہ ہم نے تیرے لئے بیویاں بھی حلال کی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ہی فرمایا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کو پڑھنے یا دوسرے کام میں مستغرق دیکھ کر صحت کے قیام کے لحاظ سے اسے کھیلنے کودنے کی اجازت دیتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ خطاب اسی غرض سے ہے کہ آپ تازہ دم ہو کر پھر دین کی خدمت میں مصروف ہوں۔اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ آپ شہوات کی طرف جھک جاویں۔نادان معترض ایک پہلو کو تو دیکھتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پادریوں نے اس بات کی طرف کبھی غور نہیں کی کہ آنحضرت علیل اللہ کا حقیقی میلان کس طرف تھا اور رات دن آپ کس فکر میں رہتے تھے۔بہت سے ملا اور عام لوگ ان باریکیوں سے ناواقف ہیں اگر ان کو کہا جاوے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں، کیا ہم حرام کرتے ہیں؟ شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں۔ان کو اس بات کا علم نہیں کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے جس قدر سے درکار ہے اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کیلئے حرام ہو جاتی ہے۔جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے مومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ہمارے کلام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جاوے۔یہ نہیں کہ صرف لذات کے پہلو پر زور دیا۔جاوے اور تقویٰ کو بالکل ترک کر دیا جاوے۔اسلام نے جن کاموں اور باتوں کو مباح کہا ہے اس سے یہ غرض ہرگز نہیں ہے کہ رات دن اس میں مستغرق رہے۔صرف یہ ہے کہ بقدر ضرورت وقت پر ان سے فائدہ اُٹھایا جاوے۔" اس مقام پر پھر وہی صاحب بولے کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ تعدد ازواج بطور دوا کے ہے نہ بطور غذا کے۔حضور نے فرمایا:۔"ہاں۔" اس پر انہوں نے عرض کی کہ ان اخبار والوں نے تو لکھا ہے کہ احمدی جماعت کو بڑھانے کیلئے