فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 177
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 177 زیادہ بیویاں کرو۔حضور نے فرمایا کہ:۔"ایک حدیث میں یہ ہے کہ کثرت ازدواج سے اولاد بڑھاؤ تا کہ اُمت زیادہ ہو۔اصل بات یہ ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ انسان کے ہر عمل کا مدار اس کی نیت پر ہے۔کسی کے دل کو چیر کر ہم دیکھ نہیں سکتے۔اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادم دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے۔لیکن یہ امر بھی مشروط بشرائط بالا ہے مثلاً ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک ایک اولاد ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے۔مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جاوے حالانکہ ہمارا یہ منصب ہر گز نہیں ہے۔قرآن شریف میں متفرق طور پر تقویٰ کا ذکر آیا ہے لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے وہاں ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے۔ادائیگی حقوق ایک بڑی ضروری شے ہے اس لئے عدل کی تاکید ہے۔اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قومی کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہئے کہ دیدہ و دانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالے۔تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہوا گر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ خاوند اور نکاح کر لے۔آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کیلئے سپر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا کل اور نظر آئی تو اسے کر لیا۔یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اسے بھلا دینا ہوا۔دین تو چاہتا ہے کہ کوئی زخم دل پر ایسا ر ہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ یاد آوے ورنہ سلپ ایمان کا خطرہ ہے۔اگر صحابہ کرام عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے حالانکہ ان کا یہ حال تھا کہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اسے مخاطب ہو کے کہا کہ تو ایک انگلی ہی ہے اگر کٹ گئی تو کیا ہوا۔مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغفرق ہے وہ کب ایسا دل لا سکتا ہے۔آنحضرت نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔صحابہ نے عرض کی کہ خدا نے آپ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ ہوں۔" ( اخبار بدر نمبر 26 جلد 3 مؤرخہ 08 جولائی 1904 ، صفحہ 3,2)