فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 175

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 175 میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباع شہوت کی بناء پر ہو سکتی ہیں؟ غرض کہ خوب یا درکھو کہ خدا کا اصل منشا یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقوی کی تکمیل کیلئے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔آنحضرت علیم اللہ کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ سے ملنے گئے ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی آنحضرت علیل اللہ ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمر نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یاوہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمر ان کو دیکھ کر رو پڑے۔آپ نے پوچھا اے عمر تجھ کو کس چیز نے رلایا؟ عمر نے عرض کی کہ کسرئی اور قیصر تو ستم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خدا کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔آنحضرت نے فرمایا اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہوریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں ستائے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔جس قدر نبی اور رسول ہوئے ہیں سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مدنظر رکھا ہوا تھا۔پس جاننا چاہے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دور رہتا ہے۔ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور رو تا کم یا بالکل ہی نہیں روتا اور ہنستا زیادہ ہے تو یادر ہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔استیفائے لذات اگر حلال طور پر ہو تو حرج نہیں۔جیسے ایک شخص ٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اسے نہاری وغیرہ اس لئے دیتا ہے کہ اس کی طاقت قائم رہے اور وہ منزل مقصود تک اسے پہنچا دے۔جہاں خدا تعالیٰ نے سب کے حقوق رکھے ہیں وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادت بجالا سکے۔لوگوں کے نزدیک چوری زنا وغیرہ ہی گناہ ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ استیفائے لذات میں مشغول ہونا بھی گناہ ہے۔اگر ایک شخص اپنا اکثر حصہ وقت کا تو عیش و آرام میں بسر کرتا ہے اور کسی وقت اُٹھ کر چار ٹکریں بھی مار لیتا ہے ( یعنی نماز پڑھ لیتا ہے ) تو وہ نمرودی زندگی بسر کرتا ہے۔آنحضرت علیم اللہ کی ریاضت اور مشقت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا