فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 160

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 160 فرمایا:۔(۲۱۹) احمدی جماعت کے ناطوں ورشتوں کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ " چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم اس کی بزرگ عنایات سے ہماری جماعت کی تعداد میں بہت ترقی ہو رہی ہے اور اب ہزاروں تک اس کی نوبت پہنچ گئی اور عنقریب بفضلہ تعالیٰ لاکھوں تک پہنچنے والی ہے۔اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ان کے باہمی اتحاد کے بڑھانے کیلئے اور نیز ان کو اہل اقارب کے بداثر اور بدنتائج سے بچانے کیلئے لڑکیوں اور لڑکوں کے نکاحوں کے بارے میں کوئی احسن انتظام کیا جائے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ مخالف مولویوں کے زیر سایہ ہو کر تعصب اور عناد اور بخل اور عداوت کے پورے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان سے ہماری جماعت کے نئے رشتے غیر ممکن ہو گئے ہیں۔جب تک کہ وہ تو بہ کر کے اسی جماعت میں داخل نہ ہوں۔اور اب یہ جماعت کسی بات میں ان کی محتاج نہیں۔مال میں ، دولت میں علم میں، فضیلت میں، خاندان میں، پر ہیز گاری میں، خدا ترسی میں سبقت رکھنے والے اس جماعت میں بکثرت موجود ہیں اور ہر ایک اسلامی قوم کے لوگ اس جماعت میں پائے جاتے ہیں تو پھر اس صورت میں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں سے ہماری جماعت نئے تعلق پیدا کرے جو ہمیں کا فر کہتے اور ہمارا نام دجال رکھتے یا خود تو نہیں مگر ایسے لوگوں کے ثناخواں اور تابع ہیں۔یادر ہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کو چھوڑ نہیں سکتا وہ ہماری جماعت میں داخل ہونے کے لائق نہیں جب تک پا کی اور سچائی کیلئے ایک بھائی بھائی کو نہیں چھوڑے گا اور ایک باپ بیٹے سے علیحدہ نہیں ہوگا تب تک وہ ہم میں سے نہیں۔سو تمام جماعت توجہ سے سن لے کہ راستباز کیلئے ان شرائط پر پابند ہونا ضروری ہے اس لئے میں نے انتظام کیا ہے کہ آئندہ خاص میرے ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں اور اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویں جو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہو اور نیک چلن اور نیزان