فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 159
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 159 کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔" تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 48 ک، ل۔مطبوعہ اپریل 1918ء) فرمایا:۔(۲۱۸) اسلامی پرده اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کیلئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔" الحکم نمبر 15 جلد 5 مؤرخہ 24 اپریل 1901 ، صفحہ 3 حضرت اُم المومنین کی طبیعت کسی قدر نا ساز رہا کرتی تھی۔آپ نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج تو نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ:۔" دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں، رعایت پردہ کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتا۔حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ باہر کی ہوا کھاؤ۔گھر کی چار دیواری کے اندر ہر وقت بند رہنے سے بعض اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں۔علاوہ اس کے آنحضرت علية السلم حضرت عائشہ کو لے جایا کرتے تھے۔جنگوں میں حضرت عائشہ ساتھ ہوتی تھیں۔پردہ کے متعلق بڑی افراط تفریط ہوئی ہے۔یورپ والوں نے تفریط کی ہے اور اب ان کی تقلید سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق و فجور کا دریا بہا دیا ہے اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔غرض ہم ان دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں۔" احکم نمبر 6 جلد 8 مؤرخہ 17 فروری 1904 ء صفحه 5)