فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 161
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 161 کے اطمینان کے موافق لائق ہو۔ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں ان پر لازم ہوگا کہ وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں اور ہر ایک کو تسلی رکھنی چاہئے کہ ہم والدین کے بچے ہمدرد اور غمخوار کی طرح تلاش کریں گے اور حتی الوسع یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی جو تلاش کئے جائیں اہل رشتہ کے ہم قوم ہوں یا اگر یہ نہیں تو ایسی قوم میں سے ہوں جو عرف عام کے لحاظ سے با ہم رشتہ داریاں کر لیتے ہوں۔اور سب سے زیادہ یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی نیک چلن اور لائق بھی ہوں اور نیک بختی کے آثار ظاہر ہوں۔یہ کتاب پوشیدہ طور پر رکھی جائے گی اور وقتا فوقتا جیسی صورتیں پیش آئیں گی اطلاع دی جائے گی اور کسی لڑکے یا لڑکی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کی جائے گی، جب تک اس کی لیاقت اور نیک چلنی ثابت نہ ہو جائے۔اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست اسماء بقید عمرو قومیت بھیج دیں تا وہ کتاب میں درج ہو جائے۔مندرجہ ذیل نمونہ کا لحاظ رہے:۔نام دختر یا پسر نام والد نام شهر بقید محله وضلع عمر دختر یا پسر۔" فرمایا:۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 51,50 ،مطبوعہ اپریل 1986ء) (۲۲۰) غیر اقوام سے ناطہ "ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولٹر کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل برخلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں، صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 31 جلد 2 مؤرخہ 2 راگست 1906 ء صفحہ 12)