فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 158

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 158 بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں۔جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو اللہ اور رسول پیارا ہے اس کو چاہئے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یا در کھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے۔" تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 48 ک۔مطبوعہ اپریل 1918ء) فرمایا:۔(۲۱۷) اپنے شوہر کی نافرمان عورتیں یہ بھی عورتوں میں خراب عادت ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہو اور پیغمبر خدا علی اللہ نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار ر ہیں۔ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بدزبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچاویں۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں، اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور ان