فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 157
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 157 شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے۔تقویٰ اختیار کرو۔دنیا سے اور اس کی زینت سے بہت دل مت لگاؤ۔قومی فخر مت کرو۔کسی عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو۔خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جوان کی حیثیت سے باہر ہیں۔کوشش کرو کہ تا تم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔فرمایا:۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 81 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کیلئے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جلشانہ نے اپنی حکمت کا ملہ سے جس میں صد با مصالح ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔پھر جو شخص اللہ ، رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں نہایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں۔کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کیلئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔" فرمایا:۔تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 48 ل ، م۔مطبوعہ اپریل 1918 ء ) (۲۱۶) بیوہ عورت کا نکاح اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا برا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھارا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاکدامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کیلئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کیلئے