فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 148
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 148 کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔" الحکم نمبر 16 جلد 12 مؤرخہ 29 فروری 1908 ، صفحہ 4 (۱۹۹) والدہ کی اطاعت ایک دوست نے خط کے ذریعہ اس امر کا استفسار کیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے۔مگر مجھے بیوی سے کوئی رنجش نہیں۔میرے لئے کیا حکم ہے۔فرمایا:- " والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو۔مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے جب تو وہ خود واجب طلاق ہے۔اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں۔گالیاں دیتی ہیں۔ستاتی ہیں۔بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔سب سے زیادہ خواہش مند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے۔اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جاطور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔جب اس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اُسے دور کرنا چاہئے۔خرچ وغیرہ کے