فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 149
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 149 معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور یہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کر اوے اور گل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔پس سبب کو دور کرنا چاہئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹادینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہئے۔دیکھو شیر اور بھیڑئیے اور اور درندے بھی تو بہلانے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔" فرمایا:۔"ایک شخص کی دو بیویاں تھیں۔بیویوں میں باہمی نزاع ہو جانے پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی۔وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دیدوں۔میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں سوکن کو بڑی بڑی تلخیاں اُٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کر لیتی ہیں۔جس طرح سے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں۔کیونکہ سوکن کے مشکلات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتے ہیں۔اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص خود بھی دوسری بیوی کی طرف ذرا زیادہ التفات کرتا تھا اور وہ بیوی بھی اس بیچاری کو کوستی اور تنگ کرتی تھی۔آخر مجبور ہو کر اور ان مشکلات کی برداشت نہ کر کے چلی گئی۔چنانچہ اس شخص نے خود اقرار کیا کہ واقعی یہی بات تھی اور اپنے ارادہ سے باز آیا۔ایسے قصوروں کو تو خود خدا بھی معاف کر دیتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے لَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ جوا مرفوق الطاقت اور نا قابل برداشت ہو جاوے،اس سے خدا بھی درگذر کرتا ہے۔دیکھو حضرت ہاجرہ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے، جو کہ مومنین کی دادی تھی۔پہلی مرتبہ جب وہ نکالی گئی تو فرشتہ نے اسے آواز دی اور بڑی تسلی دی اور اس سے اچھا سلوک کیا۔مگر جب دوسری مرتبہ نکالی گئی تو سوکن نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑ و جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی۔اس کی غرض یہی تھی کہ وہ اس طرح سے ہلاک ہوکر نیست و نابود ہو جاوے گی اور حضرت ابراہیم کا ایسا نشاء نہ تھا مگر خدا نے حضرت ابراہیم کو کہا کہ اچھا جس طرح یہ کہتی ہے اسی طرح کیا جاوے اور سارہ کی بات کو مان لے۔