فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 147
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 147 کے گناہ بخشے نہ گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم وغنم والدین اُٹھاتے ہیں جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اُٹھاتی ہے کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ماں سب تکالیف میں بچہ کے شریک ہوتی ہے، یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی۔" اخبار بدر نمبر 9 جلد 1 مؤرخہ یکم جون 1905 ، صفحہ 2 ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے انسان پر فرض کی ہے۔مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل کبھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔اب میں اس فرض الہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہوسکتا ہوں۔فرمایا کہ:۔" قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُورًا ( بى اسرائیل رکوع ۳) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہوگئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو تمہاری نسیت کا ثواب تم کو مل رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اللہ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مد نظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا