فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 132
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 132 ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے تو تم دنیا کا ہر ایک کام بند کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گاوہ سخت گنہگار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدرعید کی نماز کی بھی تاکید نہیں۔اسی غرض سے قدیم سے اور جب سے کہ اسلام ظاہر ہوا ہے جمعہ کی تعطیل مسلمانوں میں چلی آئی ہے۔" الحکم نمبر 3 جلد 7 مؤرخہ 24 جنوری 1903 ء صفحہ 5) (۱۷۰) کیا جماعت جمعہ دو آدمیوں سے ہو سکتی ہے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ؟ مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا:۔ہاں پڑھ لیا کریں۔فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔" اخبار بدر نمبر 11 جلد 6 مؤرخہ 14 / مارچ 1907 ، صفحہ 5) (۱۷۱) ایک مسجد میں دو جمعے سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرا لینے کا اختیار قانوناً یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جاوے کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے۔فرمایا:۔" جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہر حال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں اس واسطے وہ تو پڑھ ہی لیں گے اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہہ کر بموجب حدیث خود کافر ہو چکے ہیں اس واسطے تمہارے نزدیک بھی ان کی اذان اور نماز کا عدم وجود برابر ہے۔تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے ساتھ اپنا جمعہ پڑھو۔" (اخبار بدر نمبر 18 جلد 6 مورخہ 02 مئی 1907 ء صفحہ 2)