فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 131

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 131 ہوں کہ حضرت مرزا صاحب خود اپنے قلم سے قسمیہ لکھیں کہ آیا وہ وہی مسیح موعود ہیں جس کا ذکر احادیث اور قرآن شریف میں ہے۔میں نے شام کی نماز کے بعد دوات قلم اور کاغذ حضرت کے آگے رکھ دیا اور عرض کیا کہ ایک شخص ایسا لکھتا ہے حضرت نے فوراً کاغذ ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں:۔" میں نے پہلے بھی اس اقرار مفصل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پر چہ میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ نے ان احادیث صحیحہ میں دی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا۔" الراقم مرزا غلام احمد عفا اللہ عنہ واید ۷ار اگست ۹۹ء" الحکم نمبر 32 جلد 3 مؤرخہ 09 ستمبر 1899 ، صفحہ 5,4) (۱۶۸) اگر حضرت اقدس کو بزرگ مانا جائے اور بیعت نہ کی جائے ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جائے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہومگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہو وے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا:۔" بیعت کے معنی ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جب کہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کیلئے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔" ( الحکم نمبر 18 جلد 5 مورخہ 17 مئی 1901 ، صفحہ 12 (13) (۱۶۹) جمعه فرمایا:- روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کر کے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے اور اس بارے میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ