فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 133
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 133 (۱۷۲) جمعہ کے بعد احتیاطی نماز ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ:۔" قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے۔جب کہ جمعہ کی نماز پڑھ لی تو حکم ہے کہ جاؤ اپنے کاروبار کرو۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے۔تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطبہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتا۔پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھا ہے۔ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ۔اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں۔" اخبار بدر نمبر 23 جلد 6 مؤرخہ 6 جون 1907ء صفحہ 8) پھر اس شخص نے جس کا ذکر یکم اگست کی شام میں آیا ہے سوال کیا کہ حضرت احتیاطی نماز کیلئے کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔احتیاطی نماز کیا ہوتی ہے جمعہ کے تو دو ہی فرض ہیں احتیاطی فرض کچھ چیز نہیں۔" فرمایا:۔لدھیانہ میں ایک بار میاں شہاب الدین بڑے پکے موحد نے جمعہ کے بعد احتیاطی نماز پڑھی۔میں نے ناراض ہو کر کہا کہ یہ تم نے کیا کیا تم تو بڑے پکے موحد تھے اس نے کہا میں نے جمعہ کی احتیاطی نہیں پڑھی بلکہ میں نے مار کھانے کی احتیاطی پڑھی ہے۔" الحکم نمبر 29 جلد 5 مؤرخہ 10 اگست 1901، صفحه 7) (۱۷۳) نماز جمعہ میں عورتیں سوال پیش ہوا کہ نماز جمعہ کے واسطے اگر کسی جگہ صرف ایک دو مر داحمدی ہوں اور کچھ عورتیں ہوں