فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 121
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 121 جواب:۔" محض تذکرہ آنحضرت علی یا اللہ کا عمدہ چیز ہے۔اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپ کی اتباع کیلئے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔قرآن شریف میں بھی اسی لئے بعض تذکرے موجود ا ہیں جیسے فرما یاوَ اذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيْمَ لیکن اگر تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملادی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی یہ یا درکھو کہ اصل مقصد اسلام کا تو حید ہے۔مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملالی گئی ہیں۔جس نے ایک جائز اور موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔آنحضرت علی یا اللہ کا تذکرہ موجب رحمت ہے۔مگر غیر مشروع امور و بدعات منشاء الہی کے خلاف ہیں۔ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گو یا خود شریعت بناتا ہے۔اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت علیم اللہ کا تذکرہ ہی حرام ہے یہ ان کی حماقت ہے۔آنحضرت علی اللہ کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بے باکی ہے جب کہ آنحضرت علیم اللہ کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا اور اس کی تحریک ہوتی ہے۔جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔عليه وسلم ہاں جو لوگ مولود کرتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت علی اللہ ہی تشریف لے آئے ہیں یہ ان کی جرات ہے۔ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوۃ سود خور اور شرابی ہوتے ہیں۔آنحضرت علی اللہ کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق ؟ اور یہ لوگ محض ایک تماشا کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں عليه وسلم پس اس قسم کے خیال بے ہودہ ہیں۔جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرت علی اللہ کی عظمت کو دل عليه وسلم میں جگہ نہیں دیتا ہے وہ بے دین آدمی ہے۔انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دنیا کیلئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔اولیاء و انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت علیم اللہ نے فرمایا ہے کہ بہشت میں ایک اعلیٰ مقام ہوگا اور اس