فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 122

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 122 صلى میں میں ہوں گا۔ایک صحابی جس کو آپ سے بہت ہی محبت تھی وہ یہ ن کر رو پڑا اور کہا کہ حضور مجھے آپ سے بہت محبت تھی آپ نے فرمایا تو میرے ساتھ ہوگا۔مشرک بھی سچی محبت آنحضرت علی یا اللہ سے نہیں رکھ سکتا اور ایسا ہی وہابی بھی نہیں کر سکتا۔یہ مسلمانوں کے آریہ ہیں ان میں روحانیت نہیں ہے خدا تعالیٰ اور اس کے سچے رسول سے سچی محبت نہیں ہے۔دوسرا گروہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں روحانیت ان میں بھی نہیں قبر پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔پس اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت علی اللہ عليه وسلم کا تذکرہ میرے نزدیک جیسا کہ وہابی کہتے ہیں حرام نہیں بلکہ یہ اتباع کی تحریک کیلئے مناسب ہے۔جو لوگ مشرکانہ رنگ میں بعض بدعتیں پیدا کرتے ہیں وہ حرام ہیں۔" الحکم نمبر 11 جلد 7 مؤرخہ 24 / مارچ 1903 ء صفحہ 5 کسی شخص نے حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مجلس مولود کے متعلق بذریعہ عریضہ استفسار کیا تھا۔آپ نے اس کے جواب میں جو کرامت نامہ لکھا ہے اس کا درج کرنا خالی از منفعت نہیں ہو گا۔اس لئے ہم اسے ذیل میں درج کرتے ہیں۔ایڈیٹر "میرا اس میں یہ مذہب ہے کہ مصالح اعلاء کلمہ اسلام و تذکرہ نبوی کی نیت سے کوئی ایسا جلسہ کیا جائے کہ جس میں سوانح مقدسہ نبویہ کا ذکر ہو اور نہایت خوبی اور صحت و بلاغت سے اس تقریر کو سنایا جائے کہ کیونکر آنحضرت علیه تاریکی کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور کس طرح پر بے سامانی کی حالت میں تمام قوموں کے جور و جفا اُٹھا کر بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہو گئے اور کیسی خدا تعالیٰ نے اپنے اس مقبول بندہ کی وقتاً فوقتاً تائیدیں کیں اور آخر کس طور سے اس دین کو مشارق و مغارب میں پھیلا دیا اور اس تقریر میں ہر ایک محل میں کچھ کچھ نظم بھی ہو اور پُر درد اور موثر بیان ہو اور درمیان میں کثرت درود شریف کی سامعین کی طرف سے ہو اور کوئی علت اور بدعت درمیان نہ ہو تو ایسا جلسہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ میری نظر میں موجب ثواب عظیم ہے کیونکہ اس میں یہ نیت کی گئی ہے کہ تا سوانحہ مقدسہ نبی کریم علي الام تازہ طور پر لوگوں کو سنائے جائیں اور مشتاقان رسول علی اللہ کی محبت بڑھا دی جائے اور لوگوں کو عشق رسول کریم صلی اللہ کیلئے حرکت دی جائے اور ناواقفوں پر عظمت اس انسان کامل اور مرد فانی فی اللہ کی کھول دی جائے جس نے دنیا میں تنہا آکر اور تمام دنیا کو شرک اور غفلت میں گرفتار پا کر بڑی مردمی سے اپنی جان کو تھیلی پر رکھ کر ہر ایک قوم میں تو حید کی صدا بلند کی اور ہر ایک کان میں لا الہ