فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 104
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 104 ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت کے معلوم کرنے کیلئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو اگر کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتلا سکیں گے۔ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو وہ اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہہ سکے گی۔اس سے۔صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کیلئے مختلف قومی اور طاقتیں ہیں۔اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔آج کل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا بلکہ جدا گانہ خدمتیں مقرر ہیں۔سقہ پانی لاتا ہے۔دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔باور چی کھانا پکاتا ہے۔غرض کہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔پس اس اصل کو یاد رکھو کہ مختلف قوتوں کے مختلف کام ہیں۔انسان بڑے قومی لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کیلئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ اپنی عقل خاص سے چاہتا ہے حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکے گا۔امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔اس طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔انسان دھو کہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔میں اس اصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روز مرہ ہم ان باتوں کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔پس جب روح جسم سے مفارقت کرتا ہے یا تعلق پکڑتا ہے تو ان باتوں کا فیصلہ معقل سے نہیں ہوسکتا۔اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔اس طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں یہ کشفی آنکھ کا کام