فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 105

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 105 ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر عقل محض سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتلائے کہ روح کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار فلاسفر د ہر یہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کو دیکھتی اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طور پر نہیں بتلا سکتی۔چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمہ نبوت سے ملی ہیں اور نرے عقل والے تو دعوی ہی نہیں کر سکتے۔اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یا درکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمہ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے۔پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ روح کے متعلق علوم چشمہ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اسی چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تو دہ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ کہنے سے جواب ملتا ہے۔پس جو آدمی ان قومی سے کام لے جن سے کشف قبور ہوسکتا ہے وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔ہم ایک بات مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور ایک مصری کی ڈلی رکھی ہو۔اب عقل محض ان پر کیا فتویٰ دے سکے گی۔ہاں اگر ان کو چکھیں گے تو دو جدا گانہ مزوں سے معلوم ہو جاوے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری ہے۔لیکن اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیرین کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا۔پس ہمارا کام صرف دلائل سے سمجھا دینا ہے۔آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آسکتا اور ایک مسلوب القوۃ کے طریق استدلال سے فائدہ نہ اٹھانے سے اس کا ابطال نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر اگر کوئی شخص کشفی آنکھ نہیں رکھتا تو وہ اس تعلق ارواح کو کیونکر دیکھ سکتا ہے؟ پس اس کے انکار سے محض اس لئے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اس کا انکار جائز نہیں ہے۔ایسی باتوں کا پتہ نری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لگتا۔اللہ تعالیٰ نے اس لئے انسان کو مختلف قومی دیئے ہیں۔اگر ایک ہی