پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 27
کے کمرے میں گیا اس نے دیکھا کہ سلام کرسی میز پر بیٹھے کام کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ خوش ہوکر ملتے اور اسے پورا وقت دیتے حتی کہ وہ چلا جاتا اور ڈاکٹر سلام پھر اپنے کام میں لگ جاتے اور انہیں کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ اُن کے کام میں حرج واقع ہوا ہے۔یہی کیفیت ان کی انگلستان میں رہی۔ڈاکٹر عبدالسلام نے بہت شروع میں ایٹم کے بنیادی ذرات پر تحقیق کا کام شروع کیا اور جن نئے نظریات کی نشاندہی کی ، ان پر تحقیق کر کے کئی سائنسدان ایک عرصہ بعد اس نتیجہ پر پہنچے۔1956 ء میں ڈاکٹر سلام نے ایٹم کے بنیادی ذرات کے بارہ میں جو نظریہ پیش کیا اس کی دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں نے بہت مخالفت کی اور جب دوسرے سائنسدانوں کے تجربوں سے سلام کا نظریہ درست نکلا تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا اور 33 سال کی عمر میں انگلستان کی شاہی سوسائٹی نے انہیں اپنا فیلو بنالیا۔یہ اعزاز اس سے پہلے کسی مسلمان کو نہیں مل سکا۔جو نئے نظریات ڈاکٹر سلام پیش کر رہے تھے ان کی تصدیق اس طرح سے ہو جاتی کہ امریکہ اور جاپان اور چین وغیرہ کے سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے اس نتیجہ پر پہنچ جاتے۔جلد ہی ڈاکٹر سلام ساری دنیا کے سائنسدانوں میں مشہور ہو چکے تھے۔چنانچہ ان کے کاموں کی قدر کرتے ہوئے 1957ء میں کیمبرج یونیورسٹی نے انہیں ہاپکن انعام اور 1958ء میں آدم انعام دیا۔1961ء میں انہیں انگلستان میں سائنس کی سب سے بڑی فزیکل سوسائٹی کی طرف Maxwell Medal اور ایک سوگنی انعام ملا۔1959ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ پاکستان، پرائڈ آف پر فارمنس اور بیس ہزار روپے کا انعام دیا۔1964ء میں سلام کو دنیا 27