پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام

by Other Authors

Page 26 of 71

پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 26

چند سالوں میں ہی مشہور سائنسدان بن گئے اور انہیں دنیا کی بڑی بڑی سائنسی کا نفرنسوں میں شامل کیا جانے لگا۔چنانچہ 1955ء میں ڈاکٹر سلام کو اقوام متحدہ نے ایٹم برائے امن کی پہلی کانفرنس کے لیے سیکرٹری بچنا۔یہ کانفرنس سوئٹزر لینڈ میں جنیوا کے مقام پر ہوئی جہاں انہیں سائنس کے ذریعے خدمت کا بہت احساس ہوا۔1957ء میں ڈاکٹر سلام امپیریل کالج لندن میں پروفیسر بنا دیے گئے۔اس وقت ان کی عمر صرف اکتیس سال کی تھی۔اس سے پہلے انگریزوں میں اتنا بڑا عہدہ کسی مسلمان کو نہیں ملا تھا۔امپیریل کالج میں آنے کے بعد انہوں نے ایٹم کے بنیادی ذرات پر لیکچر دیا جس میں دنیا کے چوٹی کے سائنسدان شریک ہوئے اور ان کی شہرت دنیا میں بڑھنے لگی۔ان دنوں پاکستان کے ایک مشہور سیاستدان اور پاکستان کے انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے مالک میاں افتخار الدین انگلستان گئے۔انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ ایک پاکستانی لندن یو نیورسٹی میں سائنس کا چیئر مین ہوسکتا ہے۔انہوں نے پاکستان ٹائمز کے پورے صفحے پر ڈاکٹر سلام پر ایک شاندار مضمون دیا جس سے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہونے لگے۔ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنے ملک سے باہر ریاضی اور طبیعات میں تحقیقی کام کرنے کا بہت موقع ملا اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی مدد اور رہنمائی کرتا رہا۔انہوں نے ان علوم میں نئی نئی باتیں پیش کیں اور مختلف ملکوں کے بلانے پر وہ ملک ملک جا کر اپنے نظریات کی وضاحت کرتے رہے۔انہوں نے سخت محنت کو ہمیشہ اپنی کامیابی کا ذریعہ بنایا۔اتنی زیادہ محنت کرنے کے باوجود وہ لوگوں سے خوشی کے ساتھ ملتے۔محترم قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم جو گورنمنٹ کالج لاہور اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں، کا بیان ہے کہ سلام 1951ء اور 1953ء کے درمیان اٹھارہ ماہ تک اُن کے پاس لاہور میں رہے۔ان کو سخت محنت کی عادت تھی۔جب بھی کوئی ان 26