پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 24
زندگی کا نازک موڑ انگلستان سے واپسی پر سلام کو امپیریل کالج لندن کے ایک مشہور پروفیسر لیوی نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اس کا لج میں ملازم ہو جائیں لیکن سلام کے دل میں خواہش تھی کہ وہ اپنے ملک پاکستان کی خدمت کریں اس لیے انہوں نے اس وقت پروفیسر لیوی کو انکار کر دیا۔اس کے باوجود پروفیسر لیوی نے انہیں کہا کہ اگر وہ کبھی انگلستان آنا چاہیں تو وہ امپیریل کالج میں انہیں لیکچرار لگوا دیں گے۔پاکستان آکر ڈاکٹر سلام نے کوشش کی کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ریسرچ کو ترقی دیں لیکن انتظامیہ نے ان کی مخالفت کی اور انہیں فٹ بال کلب کا صدر بنا دیا۔(Biographic Sketch of Prof۔Abdus Salam) ان کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ وہ ایک مشہور سائنسدان ڈاکٹر بہلا کی دعوت پر ہمبئی گئے۔گرمیوں کی چھٹیوں کے دن تھے۔انہوں نے وہاں جا کر ایک یورپی سائنسدان ڈاکٹر پالی سے تبادلہ خیال کیا۔اس جرم کی سزا میں اُن کی تنخواہ کاٹ لی گئی۔تین سال وہ لاہور میں رہے اور اس دوران وہ حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔ان کا خیال تھا کہ جس طرح کسی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج ضروری ہے اسی طرح ملک کی ترقی کے لیے سائنس پڑھنا ضروری ہے۔انہوں نے گورنمنٹ کو مشورہ دیا کہ سائنس کی ایک الگ وزارت قائم کی جائے لیکن اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ادھر 1953ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک شروع ہوگئی۔ان دنوں ان پر قاتلانہ حملے کی بھی کوشش کی گئی۔اس دوران انہیں کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے ملا زمت پیش کی گئی اور جنوری 1954ء میں وہ کیمبرج پہنچ گئے جہاں سے ان کی زندگی کا ایک نیا موڑ شروع ہوا۔24