فقہ المسیح — Page 512
فقه المسيح 512 متفرق بعض ان احادیث کو پیش کر دیا جن میں تو ریہ کے جواز کا ذکر ہے۔اگر کسی حدیث میں تو ریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے۔کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول کرے۔جبکہ قرآن اور احادیث صحیحہ بالا تفاق کذب حقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں تو ریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں۔تو پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ کسی حدیث میں بجائے تو ریہ کے کذب کا لفظ آ گیا ہو تو نعوذ باللہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہو سکتا ہے۔بلکہ اس کے قائل کے نہایت بار یک تقویٰ کا یہ نشان ہوگا کہ جس نے تو ریہ کو کذب کی صورت سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو۔ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی امر اس کے مخالف ہوگا تو ہم اس کے وہ معنے ہرگز قبول نہیں کریں گے جو مخالف ہوں۔احادیث پر نظر ڈالنے کے وقت یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ ایسی حدیثوں پر بھروسہ نہ کریں جو اُن احادیث سے مناقض اور مخالف ہوں۔جن کی صحت اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی ہو۔اور نہ ایسی حدیثوں پر جو قرآن کی نصوص صریحہ بعینہ محکمہ سے صریح مخالف اور مغائر اور مبائن واقع ہوں۔پھر ایک ایسا مسئلہ جو قرآن اور احادیث صحیحہ نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کتب دین میں صراحت سے اس کا ذکر ہے۔اس کے مخالف کسی بے ہودہ قول یا کسی مغشوش اور غیر ثابت حدیث یا مشتبہ اثر سے تمسک کر کے اعتراض کرنا یہ خیانت اور شرارت کا کام ہے۔در حقیقت عیسائیوں کو ایسی شرارتوں نے ہی ہلاک کیا ہے۔ان لوگوں کو خود بخو دحدیث دیکھنے کا مادہ نہیں۔غایت کار مشکوۃ کا کوئی ترجمہ دیکھ کر جس بات پر اپنے فہم ناقص سے عیب لگا سکتے ہیں وہی بات لے لیتے ہیں۔حالانکہ کتب احادیث میں رطب و یابس سب کچھ ہوتا ہے اور عامل بالحدیث کو تنقید کی ضرورت پڑتی ہے۔اور یہ ایک نہایت نازک کام ہے کہ ہر ایک قسم کی احادیث میں سے احادیث صحیحہ تلاش کریں اور پھر اس کے صحیح معنی معلوم کریں۔اور پھر اس کے لئے صحیح محل تلاش کریں۔نور القرآن روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 404 تا 408)