فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 611

فقہ المسیح — Page 511

فقه المسيح 511 متفرق درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے۔اور بہر حال کھل کھلی سچائی بہتر ہے۔اگر چہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس تو ریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو۔مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے۔جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیر بر کی طرح دنیا میں آنا چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کر کے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کا ملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لا پرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے۔مجھے تو ان باتوں کو یاد کر کے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اُس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین ﷺ جنگ اُحد ( سہو ہے یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے۔شمس ) میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔میں نبی اللہ ہوں۔میں ابن عبد المطلب ہوں۔اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں۔حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا۔تو میں دریائے حسرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الہی یہ شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے۔جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔الغرض فتح مسیح نے اپنی جہالت کا خوب پر دہ کھولا بلکہ اپنے یسوع صاحب پر بھی وار کیا کہ