فقہ المسیح — Page 490
فقه المسيح 490 متفرق نکاح وغیرہ کی رسم تو اسلامی شریعت کے مطابق ہی ہوگی۔خاکسار کے اثبات پر جواب عرض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو رسوم شرع اور سنت کے موافق ہیں اُن کو تم اپنی طرف سے سمجھو اور جو خلاف شرع امور ہیں اُن کو اُن کی مرضی پر چھوڑ دو۔دل سے نا پسند کرنے کے باوجود کچھ تعرض نہ کرو۔اس طرح یہ مرحلہ بغیر فساد اور نزاع کے گزر جائے گا۔پھر مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا میرے نزدیک کسی لڑکے کو کسی خلاف شرع امر میں باپ کو منع کرنے کا اس سے زیادہ حق نہیں کہ وہ اس امر کا خلاف شرع ہونا اور اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کر دے۔سختی سے روکنے یا جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے والدین کے سامنے ادب کے ساتھ اپنا شانہ جھکانے کا اور ان کے آگے اُف تک نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔اتنے میں گاڑی آگئی۔خاکسار نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور نیچے اتر کر حضرت مولوی صاحب سے جب مصافحہ کیا تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب کے فتویٰ نے آپ کی مشکل کا حل کر دیا۔میں نے اسی لئے کہا تھا کہ حضرت صاحب سے عرض کرنا چاہئے۔دراصل ہم مولوی صاحبان کی نظریں اُن گہرائیوں تک نہیں جاتیں جہاں حضرت صاحب کا نقطہ نگاہ ہوتا ہے۔چنانچہ یہ معاملہ بلا مخالفت گزر گیا۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 88 تا 90) داروغہ نہ بنو ایک شخص کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پیش ہوا کہ فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا، روزے نہیں رکھتا ، یہ ہے، وہ ہے ، اس کو کا فرکہنا چاہئے یا نہیں ؟ وہ احمدی ہے یا نہیں؟ فرمایا: اُس کو کہنا چاہیے کہ تم اپنے آپ کو سنبھالو اور اپنی حالت کو درست کرو۔ہر شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ الگ ہے۔تم کو کس نے داروغہ بنایا ہے جو تم لوگوں کے اعمال کی پڑتال کرتے پھرو اور اُن پر کفر یا ایمان کا فتویٰ لگاتے پھرو۔مومن کا کام نہیں کہ بے فائدہ لوگوں کے پیچھے پڑتا رہے۔( البدر 23 اپریل 1908 صفحہ 6)