فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 611

فقہ المسیح — Page 489

فقه المسيح 489 متفرق میں میں سخت پریشانی اور تردد میں تھا کہ انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ تشریف لے آئے۔ایام قیام پٹیالہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب نماز عشاء کے بعد شب باش ہونے کے لئے ہمارے مکان پر تشریف لاتے اور صبح کی نماز کے بعد پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔ایک دن موقعہ پا کر میں نے اپنی مشکل کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔حضرت مولوی صاحب نے اس داستان کو بڑے غور سے سنا اور فرمایا کہ چونکہ حضرت صاحب تشریف فرما ہیں اس لئے اس معاملہ کو حضور کو پیش کر دو۔میں نے عرض کیا کہ لوگوں کی ہر وقت آمد و رفت اور حضرت صاحب کی مصروفیت کے سبب شاید حضرت صاحب سے عرض کرنے کا موقعہ نہ ملے۔مولوی صاحب نے فرمایا موقعہ نکالنے کی ہم کوشش کریں گے۔خاکسار تو رخصت نہ ہونے کے سبب ایک روز قبل ہی را جپورہ اپنی جائے ملازمت پر چلا گیا۔حضرت صاحب اُس سے ایک روز بعد یا دوسرے روز بغرض وا پسی را جپورہ صبح آٹھ بجے والی گاڑی سے پہنچے اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر جب ٹرین پر سوار ہونے کے لئے پلیٹ فارم را جپورہ پر تشریف لائے تو مولوی صاحب نے خاکسار کو قریب طلب فرما کر یہ سارا واقعہ حضور کے گوش گزار کر دیا۔حضور نے تمام حالات سن کر خاکسار سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کے والد صاحب کو یہ علم ہے کہ آپ کو ایسی رسوم جو کہ خلاف شرع ہیں دل سے پسند نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں اُن سے زبانی عرض کرنے کے علاوہ ایک مدلل مضمون ان رسومات کے خلاف لکھ کر ایک اخبار میں اپنے نام سے شائع کرا کر اس کی کا پیاں اپنے والد صاحب کے پاس پہنچائیں مگر وہ مضمون کو پسند کرنے اور اس سے متفق ہونے کے باوجود عملاً اس کے خلاف اور اپنی مرضی کے موافق کرنے پر آمادہ ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر تم اُن اہل حدیث مولوی صاحب کے کہنے کے موافق شادی سے انکار کر دو تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔میں نے عرض کیا کہ ہمیشہ کے لئے میرا اُن سے انقطاع انجام ہوگا۔اس کے بعد فر مایا آخر