فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 611

فقہ المسیح — Page 488

فقه المسيح 488 متفرق درخواست پر ایک دو روز کے لئے حضور نے پٹیالہ میں قیام فرمایا۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ہمراہ تھے۔ان دنوں میری شادی و نکاح کا مرحلہ در پیش تھا اور میرے والد مرحوم اپنی دنیا دارانہ وضع کے پابند اور نام و نمود کے خوگر تھے اور اپنے احباب اور مشیروں کے زیر اثر شادی کے اہتمام میں باوجود مالی حالت اچھی نہ ہونے کے قرض لے کر بھی جلوس اور خلاف شرع رسوم کی تیاریوں میں مصروف تھے۔خاکسار نے اُن سے ان رسوم کی مخالفت اور اپنی بیزاری کا اظہار کیا مگر اُن پر کچھ اثر نہ ہوا۔میں نے اپنی جائے ملا زمت را جپورہ سے ان رسومات کے خلاف شرع اور خلاف اخلاق و تمدن ہونے کے متعلق تین چار صفحات کا ایک مضمون لکھ کر دہلی کے ایک ہفتہ وار اخبار میں شائع کرایا اور چند کا پیاں منگوا کر اپنے والد صاحب کی خدمت میں اور دیگر بزرگان کے نام بھجوادیں۔اس کے بعد میں پٹیالہ آکر اپنے والد صاحب سے ملا۔والد صاحب نے مضمون کی تعریف کی اور ان خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مضمون کے مطابق تم اپنے وقت پر عمل کر لینا۔میں نے تو صرف یہی ایک شادی کرنی ہے۔میں تو اسی طرح کروں گا جیسا میرا دل چاہتا ہے، تم کو وہ باتیں پسند ہوں یا نہ ہوں۔اس کا جواب خاموش رہنے کے سوا اور میرے پاس کیا تھا۔آخر میں نے ایک اہل حدیث مولوی سے جن کے ہمارے خاندان سے بہت تعلقات تھے اور خاکسار پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے۔اپنی یہ مشکل پیش کی۔انہوں نے سن کر میرے والد صاحب کی طبیعت سے واقف ہونے کی وجہ سے اُن کو تو کچھ کہنے کی جرات نہ کی بلکہ مجھے بڑی سختی سے تلقین کی کہ اگر تمہارے والد صاحب ان خلاف شرع رسومات کے ادا کرنے سے نہ رکیں تو تم شادی کرانے سے انکار کر دو۔چونکہ میں اپنے والد صاحب کی طبیعت سے واقف تھا اور میرا کوئی دوسرا بہن بھائی بھی نہ تھا۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ ایسا جواب اُن کو سخت ناگوار معلوم ہوگا اور میرے اُن کے تعلقات ہمیشہ کے لئے خراب ہو کر خانگی زندگی کے لئے تباہ کن ہوں گے۔اس لئے ان حالات