فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 611

فقہ المسیح — Page 474

فقه المسيح 474 متفرق جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔بشرطیکہ اُس نذر کے ساتھ ساتھ دعاؤں اور گریہ وزاری اور صدقات و خیرات سے بھی کام لیا جائے۔چندہ دینے کی نیت سے نذرماننا ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 620) حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نام مکتوب میں آپ نے تحریر فر مایا: عنایت نامہ پہنچا، مضمون سے آگاہی ہوئی۔اب یقیناً معلوم ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلا ہے بلکہ ایک سخت ابتلا ہے۔میں اسی فکر میں تھا کہ خدا تعالیٰ دعا کرنے کے لئے پوری توجہ بخشے اور خدا کا استغناء ذاتی بھی پیش نظر تھا کہ اتنے میں نظام الدین مستری کا قصہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔معادل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ خدا کے فضل اور کرم سے کیا تعجب ہے کہ اگر نظام الدین کی کارروائی کے موافق آپ کی طرف سے مع اپنے بھائیوں کے کارروائی ہو تو خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو نظام الدین کے ساتھ کیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ نظام الدین نام سیالکوٹ میں ایک مستری ہے۔چند روز ہوئے اس کا ایک خط میرے نام آیا۔افسوس ہے کہ وہ خط شاید چاک کیا گیا۔اس کا مضمون یہ تھا کہ میں ایک فوجداری جرم میں گرفتار ہو گیا ہوں اور کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔اس بیقراری میں میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس خوفناک مقدمہ سے رہا کر دے تو میں مبلغ پچاس روپیہ نقد آپ کی خدمت میں بلا توقف ادا کروں گا۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب اس کا خط پہنچا تو مجھے خود روپیہ کی ضرورت تھی۔تب میں نے دعا کی کہ اے خدائے قادر و کریم ! اگر تو اس شخص کو اس مقدمہ سے رہائی بخشے تو تین طور کا فضل تیرا ہوگا۔اول یہ کہ یہ مضطر آدمی اس بلا سے رہائی پا جائے گا۔دوم مجھے جو اس وقت روپیہ کی ضرورت ہے میرا مطلب کسی قدر پورا ہوگا۔سوم تیرا ایک نشان ظاہر ہو جائے گا۔دعا کرنے سے چند روز بعد نظام الدین کا خط آیا جو آپ کے ملاحظہ کے لئے بھیجتا ہوں اور دوسرے روز پچاس روپے آگئے۔پس میرے دل میں خیال گزرا کہ ان دنوں میں دینی ضروریات