فقہ المسیح — Page 473
فقه المسيح 473 متفرق نصف سر کے بال ایک خاص شخص کو دے دیئے اور نصف سر کے بال باقی اصحاب میں بانٹ دیئے۔آنحضرت ﷺ کے جبہ مبارک کو دھو دھو کر مریضوں کو بھی پلاتے تھے اور مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے۔ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذ کا رسن کر حضرت اقدس نے فرمایا: پھر اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ بہر حال اس میں کچھ بات ضرور ہے جو خالی از فائدہ نہیں ہے اور تعویذ وغیرہ کی اصل بھی اس سے نکلتی ہے بال لٹکائے تو کیا اور تعویذ باندھا تو کیا میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں میں سے برکت ڈھونڈ لیں گے۔آخر کچھ تو ہے تبھی وہ برکت ڈھونڈیں گے مگر ان تمام باتوں میں تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے۔“ البدر 17 جولائی 1903 ، صفحہ 1) شکرانہ کی نسبت سے نذر ماننا درست ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: نذر کے متعلق حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ہاں اگر کوئی نذر مانی جائے تو پھر اُس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔نذر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے نا پسند فرمایا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے ایک قسم کا ٹھیکہ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔انسان کو چاہئے کہ وہ اس کی بجائے صدقہ و خیرات اور دعاؤں سے کام لے۔ہاں اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ کوئی نذر بھی شکرانہ کے طور پر مان لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔میں یہ استنباط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک عمل سے کرتا ہوں۔آپ بعض دفعہ اُن لوگوں کو جو آپ سے دعا کے لئے عرض کرتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ میں دعا کروں گا۔آپ اپنے دل میں خدمت دین کے لئے کوئی رقم مقرر کر لیں جسے اس کام کے پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکرانہ کے طور پر اگر کوئی نذر مان لی