فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 611

فقہ المسیح — Page 475

فقه المسيح 475 متفرق کے لئے بہت کچھ تفکرات مجھے پیش ہیں۔مہمانوں کے اترنے کیلئے عمارت نامکمل ہے۔مرزا خدا بخش کی چار سو روپیہ کی خریدی ہوئی زمین ہے وہ توسیع مکان کے لئے مل سکتی ہے۔اگر اس قد ر روپیہ دیا جائے۔پھر کم سے کم دو ہزار روپیہ اور چاہیے تا اس پر عمارت بنائی جائے اور تکمیل مینار کا فکر بھی ہر وقت دل کو لگا ہوا ہے مگر وہ ہزار ہا روپیہ کا کام ہے۔جس طرح خدا چاہے گا اس کو انجام دے گا۔بالفعل بموجب وحی الہی وَسِعُ مَكَانَكَ کے مہمانوں کے پورے آرام کے لئے ان اخراجات کی ضرورت ہے۔پس میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اگر ایک بلا سے رہا ہونے کے لئے آپ معہ اپنے بھائیوں کے دوسری بلا کو منظور کر لیں یعنی یہ نذر کر لیں کہ اگر ہمیں اس بلا سے غیبی مدد سے رہائی ہوئی تو ہم اس قدر رو پی محض اللہ ان دینی ضروریات کیلئے جس طرح ہم سے ہو سکے بلا توقف ادا کر دیں گے تو میں اسی طرح دعا کروں گا جس طرح میں نے نظام الدین مستری کیلئے دعا کی تھی۔خدا تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے اس صدق کو دیکھ کر آپ کی مشکل کشائی فرما دے۔میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ ضرور یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز ہے مگر مجھے اپنے رب کریم کی سابق عنایتوں پر نظر کر کے یقین گئی ہے کہ کم سے کم وہ مجھے آئندہ کے حالات سے اطلاع دے دے گا اور چونکہ اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں پچاس یا ساٹھ نشان اور دکھلاؤں گا اس لئے تعجب نہیں کہ آپ کی اس بیقراری کے وقت یہ بھی ایک نشان ظاہر ہو جائے۔لیکن قبل اس کے کہ خدا تعالیٰ مشکل کشائی فرما دے۔ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں اور ایک پیسہ کا بھی مطالبہ نہیں۔ہاں اگر دعاسنی جائے اور آپ کا کام ہو جائے تب فی الفور آپ کو نذر مقررہ بلا تاخیر ایک ساعت ادا کرنا ہوگا اور دونفل پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ عہد کرنا ہو گا اور بعد پختگی عہد بلا توقف مجھے اطلاع دینا ہوگا۔مجھے یاد ہے کہ جب نظام الدین کے لئے میں نے دعا کی تب خواب میں دیکھا کہ ایک چڑا اُڑتا ہوا میرے ہاتھ میں آ گیا اور اس نے اپنے تئیں میرے حوالہ کر دیا اور میں نے کہا کہ یہ ہمارا