فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 611

فقہ المسیح — Page 414

فقه المسيح 414 بدعات اور بد رسومات کراہت آئی۔میں نے اُسے کہا کہ تو مجھے دکھا۔جب میں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا۔اَردُدْتُ اَنْ اُسْتَخْلَفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ - اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے ، ردائے الہی کے نیچے ہوتا ہے۔اسی لیے آدم کے لیے فرمایا کہ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِي (الحجر: : 30) اسی طرح پر غلطیاں پیدا ہوتی گئیں۔اُصول کو نہ سمجھا۔کچھ کا کچھ بگاڑ کر بنالیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کر دی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہو جاوے۔(الحکم 24 اکتوبر 1901 صفحہ 2) قلب جاری ہو جانے کا مسئلہ فرمایا: تصور شیخ کا مسئلہ ہندوؤں کی ایجاد اور ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔چنانچہ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی ، تو پھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی۔صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتا کر اس کے طریقے بتا دیے جاتے۔مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ایک مسلمان اس کے پاس گیا اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہو گیا۔یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔رام خدا کا نام نہیں ہے۔دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا نام نہیں ہے۔قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جہلا کو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے کیا جاتا ہے۔اگر لوٹا لوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہو سکتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتو پھر وہی بولتا ہے۔یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے، بلکہ اس سے بہتر تعلیم دی ہے۔إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبِ سَلِيمٍ (الشعراء :90) خدا یہ چاہتا ہے کہ سارا وجود ہی قلب ہو جائے ور نہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیں ہوتا تو ایسا قلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔