فقہ المسیح — Page 413
فقه المسيح 413 بدعات اور بد رسومات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھ پر افترا کرتے ہیں کہ گویا میں ایسی مستقل نبوت کا دعوی کرتا ہوں جو صاحب شریعت نبی علیہ کے سوا الگ نبوت ہے ، مگر دوسری طرف یہ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خود کر رہے ہیں۔جب کہ خلاف رسول اور خلاف قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کرتے ہیں جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حکم مانتے ہیں کیا اڑہ کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی و اثبات کے ذکر اور کیا کیا میں سکھاتا ہوں پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعوی تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔تصور شیخ (الحکم 10 اگست 1902 ء صفحہ 5) سوال: جو تصور شیخ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے۔جواب: مانا کہ وہ ایسا کہتے ہیں مگر بت پرستی تو شروع ہی تصور سے ہوتی ہے۔بُت پرست بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچا ہے۔پہلے تصور ہی ہوگا۔پھر یہ سمجھ لیا کہ تصور قائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویر ہی بنالیں اور پھر اس کو ترقی دیتے دیتے پتھر اور دھاتوں کے بُت بنانے شروع کر دیئے اور اُن کو تصویر کا قائم مقام بنالیا۔آخر یہاں تک ترقی کی کہ اُن کی روحانیت کو اور وسیع کر کے ان کو خدا ہی مان لیا۔اب نرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ منتر کے ساتھ اُن کو درست کر لیتے ہیں اور پر میشر کا حلول ان پتھروں میں ہو جاتا ہے۔اس منتر کا نام انہوں نے اوا ہن رکھا ہوا ہے۔میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو ، تو اس نے کہا کہ اس پر اوا ہن لکھا ہوا ہے۔مجھے اس سے