فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 611

فقہ المسیح — Page 372

فقه المسيح 372 حلت و حرمت کام ہے کہ اپنی طرف سے نئی شریعت ایجاد کرتے ہیں اور الٹا ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم مدعی نبوت ہیں۔وہ ذرا سوچیں تو معلوم ہو کہ مدعی نبوت و رسالت کون ہے ہم یا وہ۔جس چیز کی حلت وحرمت کا ذکر شریعت میں نہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ثابت نہ ہو تو ہم خواہ مخواہ گھسیٹ گھساٹ کر شریعت میں لا ڈالیں سوائے اس کے کہ ہم کچھ نہیں کہتے کہ لغو کام ہے۔اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ ہی پیش از میں نسبت اس کے لغو ہونے کا ہی حکم دیتے اور کچھ نہیں۔پھر فرمایا کہ تم کھاتے ہو؟ میں نے کہا حضور قدر قلیل ایک یا دورتی پان میں کھاتا ہوں فرمایا کہ کتنی مدت سے؟ عرض کیا پانچ چھ سال سے۔فرمایا کیوں کھاتے ہو؟ عرض کیا دانتوں کے درد کے سبب سے چونکہ کاپی لکھنے کے وقت منہ نیچے رہتا ہے تو نزلہ اور زکام کا زور ہو جاتا ہے۔یہ منہ میں رہتا ہے تو دردموقوف رہتا ہے۔آپ نے ہنس کر فرمایا کہ چھوٹ نہیں سکتا؟ میں نے عرض کیا کہ چھوٹ تو سکتا ہے لیکن دانتوں میں درد ہو جاتا ہے۔فرمایا چند روز بیش کھاؤ (جس کو میٹھا تیلیا بھی کہتے ہیں ) یہ بھی ایک زہر ہے جب ہر دوز ہرمل جاویں گے تو پھر یہ ہر دو خبیث مل کر چھوٹ جائیں گے میں نے پھر عرض کیا کہ چھوڑنے میں تو کوئی دقت نہیں صرف دانتوں کے درد کا خیال ہے۔حضور نے تو دیکھا ہے کہ رمضان شریف کے میں نے گیارہ روزے رکھے۔صرف دن کو زردہ نہیں کھا یا رات کو کھایا جاتا تھا۔کس قدر درد زور وشور سے ہوا۔آپ نے فرمایا ہاں بے شک ہوا تھا۔(تذکرة المهدی صفحہ 8 تا 10 ) مقوی صحت ادویات کا استعمال جائز اور درست ہے فرمایا:۔منشی الہی بخش اور اُس کے دوسرے رفیق اعتراض کرتے ہیں کہ میں بیدمشک اور کیوڑہ کا استعمال کرتا ہوں یا اور اس قسم کی دوائیاں کھاتا ہوں۔تعجب ہے کہ حلال اور طیب چیزوں کے کھانے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔اگر وہ غور کر کے دیکھتے اور مولوی عبداللہ غزنوی کی حالت پر نظر