فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 611

فقہ المسیح — Page 373

فقه المسيح 373 حلت و حرمت رکھتے تو میرا مقابلہ کرتے ہوئے اُن کو شرم آجاتی۔مولوی عبد اللہ کو بیویوں کا استغراق تھا، اس لیے انڈے اور مرغ کثرت سے کھاتے تھے۔یہانتک کہ اخیر عمر میں شادی کرنا چاہتے تھے۔میری شہادت مل سکتی ہے کہ مجھے کیوڑہ وغیرہ کی ضرورت کب پڑتی ہے۔میں کیوڑہ وغیرہ کا استعمال کرتا ہوں جب دماغ میں اختلال معلوم ہوتا ہے یا جب دل میں تشیخ ہوتا ہے۔خدائے وحدہ لا شریک جانتا ہے کہ بجز اس کے مجھے ضرورت نہیں پڑتی۔بیٹھے بیٹھے جب بہت محنت کرتا ہوں تو یکدفعہ ہی دورہ ہوتا ہے۔بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ قریب ہے کہ بخش آ جاوے اس وقت علاج کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ہر روز باہر سیر کو جاتا ہوں۔مگر مولوی عبد اللہ جو کچھ کرتے تھے یعنی مرغ ، انگور، انڈے وغیرہ جو استعمال کرتے تھے اس کی وجہ کثرت ازدواج تھی اور کوئی سبب نہ تھا۔انبیاء علیہم السلام ان چیزوں کا استعمال کرتے تھے مگر وہ خدا کی راہ میں فدا تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی گھبراتے تھے ، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مار کر کہتے کہ اے عائشہ ہم کو راحت پہنچا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو سارا جہان دشمن تھا۔پھر اگر اُن کے لیے کوئی راحت کا سامان نہ ہو ، تو یہ خدا کی شان کے ہی خلاف ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے کہ جیسے کافور کے ساتھ دو چار مرچیں رکھی جاتی ہیں کہ اُڑ نہ جائے۔(الحکم 10 جولائی 1902 صفحہ 3) طیبات کا استعمال حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کھانے پینے کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔آپ نے کھانے کا اہتمام والتزام اس نیت سے کبھی نہ کرایا کہ وہ حظ نفس کا کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے بلکہ مقصد خور و نوش سے مقصدِ حیات تھا اور متعدد واقعات اس کو بتاتے ہیں کہ