فقہ المسیح — Page 370
فقه المسيح 370 حلت و حرمت معمر مہمان کو حقہ پینے کی اجازت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقہ سے بہت کراہت کرتے تھے بلکہ بعض اوقات اس کے متعلق بعض لوگوں پر ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا۔مگر سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی جب تشریف لاتے تھے۔تو ان کے لئے کہدیا تھا کہ وہ بے شک حقہ پی لیا کریں۔کیونکہ سیٹھ صاحب معمر آدمی تھے اور پُرانی عادت تھی۔یہ ڈر تھا کہ کہیں بیمار نہ ہو جائیں۔نیز سیٹھ صاحب بیمار بھی رہا کرتے تھے۔چنانچہ ان کو ذیا بیٹیس بھی تھا اور کا ر بنکل بھی ہوا تھا۔حقہ آہستہ آہستہ چھوڑ دو حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں: (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 664) جن دنوں میں حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی طرف سے خطوط کے جواب لکھا کرتا تھا تو من جملہ اور مسائل کے حقہ کی نسبت بھی ہماری جماعت کے احباب دریافت کرتے تھے کہ ہمیں حقہ پینے کی عادت ہے اس کی نسبت حضور کا کیا فتویٰ ہے حکم ہو تو ترک کر دیں۔پس حضرت اقدس علیہ السلام نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ ہمارے پاس مختلف مضمون کے خط آتے ہیں بعض دعا کے لئے آتے تھے سو اس میں ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جس وقت کسی کا خط دعا کے لئے آتا ہے تو ہم اسی وقت دعا کر دیتے ہیں۔اور جب وہ یاد آتا ہے تب بھی دعا کیا کرتے ہیں سوایسے خطوط کا جواب یہ لکھ دیا کرو کہ ہم نے دعا کی ہے اور کرتے رہیں گے اور چاہئے کہ دعا کے لئے یاد دلاتے رہو۔اور بعض خطوط مسائل دریافت کرنے کے بارہ میں ہوتے ہیں۔پس جو مسئلہ ایک دفعہ تم کو کسی کے دریافت کرنے پر بتلایا جاوے تو ہمیشہ بے پوچھے لکھ دیا کرو اور جو نیا مسئلہ ہو وہ دریافت کر لیا کرو۔بعض خیریت دریافت کیا کرتے ہیں ان کو خیریت کی اطلاع دے دیا