فقہ المسیح — Page 369
فقه المسيح 369 حلت و حرمت حقہ نوشی پر ناپسندیدگی کا اظہار حقہ نوشی کے متعلق ذکر آیا، فرمایا: اس کا ترک اچھا ہے۔ایک بدعت ہے، منہ سے بو آتی ہے۔ہمارے والد مرحوم صاحب اس کے متعلق ایک شعر اپنا بنایا ہوا پڑھا کرتے تھے جس سے اس کی برائی ظاہر ہوتی ہے۔(الحکم۔10 ستمبر 1901 ءصفحہ 9) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میں شروع میں حقہ بہت پیا کرتا تھا۔شیخ حامدعلی بھی پیتا تھا۔کسی دن شیخ حامد علی نے حضرت صاحب سے ذکر کر دیا کہ یہ حقہ بہت پیتا ہے۔اس کے بعد میں جو صبح کے وقت حضرت صاحب کے پاس گیا اور حضور کے پاؤں دبانے بیٹھا تو آپ نے شیخ حامد علی سے کہا کہ کوئی حقہ اچھی طرح تازہ کر کے لاؤ۔جب شیخ حامد علی حقہ لایا تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ پیو۔میں شرما یا مگر حضرت صاحب نے فرمایا جب تم پیتے ہو تو شرم کی کیا بات ہے۔پیو کوئی حرج نہیں۔میں نے بڑی مشکل سے رُک رُک کر ایک گھونٹ پیا۔پھر حضور نے فرمایا میاں عبداللہ مجھے اس سے طبعی نفرت ہے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے بس میں نے اسی وقت سے حقہ ترک کر دیا اور اس ارشاد کے ساتھ ہی میرے دل میں اس کی نفرت پیدا ہوگئی۔پھر ایک دفعہ میرے مسوڑھوں میں تکلیف ہوئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ جب میں حقہ پیتا تھا تو یہ در دہٹ جاتا تھا۔حضور نے جواب دیا کہ بیماری کے لئے حقہ پینا معذوری میں داخل ہے اور جائز ہے جب تک معذوری باقی ہے۔چنانچہ میں نے تھوڑی دیر تک بطور دوا استعمال کر کے پھر چھوڑ دیا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور کے گھر میں حقہ استعمال ہوتا تھا۔ایک دفعہ حضور نے مجھے گھر میں ایک تو ڑا ہوا حقہ کیلی پر لٹکا ہوا دکھایا اور مسکرا کر فرمایا ہم نے اسے تو ڑ کر پھانسی دیا ہوا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گھر میں کوئی عورت شاید حقہ استعمال کرتی ہوگی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 91)