فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 611

فقہ المسیح — Page 364

فقه المسيح 364 حلت و حرمت یہی کافی نہیں کہ وہ زنا سے پر ہیز کرے کیونکہ زنا نہایت درجہ مفسد طبع اور بے حیا انسانوں کا کام ہے اور یہ ایک ایسا موٹا گناہ ہے جو جاہل سے جاہل اس کو بُرا سمجھتا ہے اور اس پر بجز کسی بے ایمان کے کوئی بھی دلیری نہیں کر سکتا۔پس اس کا ترک کرنا ایک معمولی شرافت ہے کوئی براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209) بڑے کمال کی بات نہیں۔تکبیر پڑھ کر پرندہ شکار کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ غلیل سے جو پرندے مارے جاتے ہیں ان کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تکبیر پڑھ کر مار لیا کرو اور فرماتے تھے کہ غلیل اور بندوق کا حکم بھی تیر کی طرح ہے۔یعنی اگر جانور ذبح سے پہلے ہی مرجائے تو وہ حلال ہے۔یہ ذکر اس بات پر چلا تھا کہ بھائی عبدالرحیم صاحب اکثر پرندے غلیل سے مار کر لایا کرتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ کئی پرندے وہیں ذبح سے پہلے مر جاتے ہیں۔تو بھائی جی ان کو حرام سمجھ کر چھوڑ آتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ تکبیر پڑھ کر مارلیا کریں۔پھر اگر ذبح سے پہلے مر بھی جائیں تو جائز ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جاوے یعنی اس کے ذبح کرنے کا موقع نہ ملے تو تکبیر پڑھنے کی صورت میں وہ جائز ہے۔یہ مراد نہیں کہ ذبح کا موقعہ ہومگر پھر بھی ذبیح نہ کیا جائے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 600،599) ایک سوال کے جواب میں فرمایا : تکبیر پڑھ کر بندوق مارے، شکار مر جاوے تو حلال ہے۔“ (احکام 10 فروری 1907 صفحہ 4) جانور کو ذبح کرنا ضروری ہے حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں: