فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 611

فقہ المسیح — Page 365

فقه المسيح 365 حلت و حرمت ایسا جانور جو گردن پر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا جو دم گھونٹ کر مارا گیا ہو کھانا جائز نہیں۔قرآن کریم منع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔ہاں اگر یہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں وہ بہر حال جائز ہے خواہ تکبیر سے کریں یا نہ کریں۔آپ بسم اللہ کہہ کر اسے کھالیں۔الفضل 14 ستمبر 1915 ، صفحہ 4) نجاست خور گائے کا گوشت حرام ہے فرمایا: ایک نجاست خورگائے ہوتی ہے جس کو جلالہ کہتے ہیں۔اس کا گوشت حرام لکھا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے جانور مثل بھیٹر ، مرغی کی پرورش میں حفاظت کرنی چاہیئے اور ان کو نجاست خوری سے بچانا چاہئے۔( بدر 29 ستمبر 1905 ، صفحہ 3) علاج کے طور پر ممنوع چیزوں کا استعمال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔اس میں کو نین اور کافور کے علاوہ افیون ، بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادو یہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا کہ ڈاکٹر یا طبیب اگر دوائی کے طور پر دے تو جائز ہے۔مگر باوجود اس کے آپ نے اپنے پڑ دادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ان کی مرض الموت میں کسی طبیب نے شراب بتائی مگر انہوں نے انکار کیا اور حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ان کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے موت کو شراب پر ترجیح دی۔اس سے معلوم ہوا کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 615)