فقہ المسیح — Page 362
فقه المسيح رضاعت سے حرمت 362 حلت و حرمت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے بڑے لڑکے میاں عبدالحي مرحوم کا نکاح بہت چھوٹی عمر میں حضرت صاحب نے پیر منظور محمد صاحب کی چھوٹی لڑکی ( حامدہ بیگم ) کے ساتھ کرا دیا تھا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں۔اس پر علماء جماعت کی معرفت اس مسئلہ کی چھان بین ہوئی کہ رضاعت کس قدر دودھ پینا مراد ہے اور کیا موجودہ صورت میں رضاعت ہوئی بھی ہے یا نہیں ؟ آخر تحقیقات کر کے اور مسئلہ پر غور کر کے یہ فیصلہ ہوا کہ واقعی یہ ہر دورضائی بہن بھائی ہیں اور نکاح فسخ ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس وقت حضرت صاحب اس طرف مائل تھے کہ اگر معمولی طور پر کسی وقت تھوڑا سا دودھ پی لیا ہے تو یہ ایسی رضاعت نہیں جو باعث حرمت ہو اور حضور کا میلان تھا کہ نکاح قائم رہ جائے مگر حضرت خلیفہ اول کو فقہی احتیاط کی بناء پر انقباض تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے فسخ کی اجازت دے دی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 563،562) اسی واقعہ کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ خاتون کا نکاح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے لڑکے میاں عبدالحی صاحب مرحوم سے کر دیا۔نکاح کے بعد میاں عبدالحي صاحب کی والدہ کو یاد آ گیا اور انہوں نے کہا کہ ”لڑکی نے میرا دودھ پیا ہوا ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جب یہ بات پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے خَمْسُ رَضْعَاتٍ “ کی شرط ہے یعنی یہ ضروری ہے کہ بچے نے پانچ دفعہ دودھ پیا ہو، یہ نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں اس نے پانچ گھونٹ دودھ پیا ہو بلکہ الگ الگ وقتوں میں پانچ