فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 611

فقہ المسیح — Page 361

فقه المسيح 361 حلت و حرمت سؤر کھاتے ہیں۔اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سور بھی اپنی جماعت کے لئے حلال کر دیا۔حالانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی نا جائز ہے۔حلت و حرمت میں زیادہ تفتیش نہ کرو (چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 375) ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکر اوغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: شریعت کی بناء نرمی پر ہے سختی پر نہیں اصل بات یہ ہے کہ أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ (البقرة:174) سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع وشراء میں آجاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر میاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جو ٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشڈ دہو تو سب حرام ہو جاو میں اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنانرمی پر ہے۔اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اسی سوال کی اور باریک جزئیات پر سوال شروع کئے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ (المائدة : 102) بھی فرمایا ہے۔بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔الحکم 10 راگست 1903 صفحہ 20 )