فقہ المسیح — Page 350
فقه المسيح 350 حکومت کی اطاعت سے خارج کیا جاتا ہے ہم ان لڑکوں پر خوش ہیں جنہوں نے اس موقعہ پر ہماری تعلیم پر عمل کیا۔بہت سے لوگ بیعت میں آکر داخل ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ شرائط بیعت پر عمل نہیں کرتے تو خود بخود اس سے خارج ہو جاتے ہیں۔یہی حال عزیز احمد کا تھا۔اس میں خصوصیت نہ تھی اور یہ امر کہ ہمارا وہ پوتا ہے اس وجہ سے وہ ہمارا رشتہ دار ہے سو واضح ہو کہ ہم ایسے رشتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ہمارے رشتے سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہیں۔عزیز احمد کا باپ خود ہم سے برگشتہ ہے۔تو پھر عزیز احمد کا پوتا ہونا کیسا؟ عزیز احمد کو چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں اول ہم سے مشورہ کرتا یا اس مثال کو دیکھتا جو پہلے میڈیکل کالج لاہور میں قائم ہو چکی تھی کہ جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جولڑ کے اس جماعت میں داخل تھے ان کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراً داخل ہو گئے۔عزیز احمد کو اس واقعہ کی خبر ہوگئی کیونکہ اخبار میں چھپ چکا تھا۔اور اگر خبر نہ ہوتی تو اس کے واسطے ضروری تھا کہ اول مجھ سے مشورہ کرتا یا اپنے ساتھیوں کے مشورہ پر چلتا۔اس کا علی گڑھ میں جانا بھی اس کے باپ کے مشورہ اور حکم سے تھا نہ کہ ہمارا اس میں کوئی حکم تھا۔ایسا ہی مخالفت استادان میں شمولیت ہمارے کسی تعلق کی وجہ سے نہیں اور اسی وجہ سے اس کو خارج از بیعت کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اپنے فعل سے تو بہ کر کے اپنے استادوں سے معافی نہ مانگے۔ہاں دوسرے طلباء مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ نے علی گڑھ جانے سے پہلے ہم سے مشورہ لیا تھا اور ہم نے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہاں کے لڑکوں کی صحبت سے بچتے رہیں اور کسی بدی میں شامل نہ ہوں تو ہرج نہیں کہ وہاں جائیں۔انسان ضرور تا پاخانہ میں بھی جاتا ہے مگر اپنے آپ کو نجاست سے بچائے رکھتا ہے۔