فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 611

فقہ المسیح — Page 336

فقه المسيح 336 حکومت کی اطاعت نے اُن کے دلوں میں یہ بات کوٹ کر بھر دی ہے کہ بناوٹی خدا اب کام نہیں آ سکتا۔پادریوں کی یہ حالت ہے کہ صرف ٹکڑے کی خاطر کام کر رہے ہیں۔ایک دن تنخواہ کو دیر ہو جاوے تو کام چھوڑ دیتے ہیں اور خود عیسائی مذہب کے رد میں کتابیں لکھتے ہیں۔(البدر 18 فروری 1905 صفحہ 3) اولوالامر کون ہے سوال اولو الامر سے کیا مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک مولوی او لو الامر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کوئی نہیں۔جواب : اصل بات یہ ہے کہ اسلام میں اس طرح پر چلا آیا ہے کہ اسلام کے بادشاہ جن کے ہاتھ میں عنان حکومت ہے ان کی اطاعت کرنی چاہیے وہ بھی ایک قسم کے اولوالامر ہوتے ہیں لیکن اصل اولوالا مرو ہی ہوتے ہیں جن کی زندگی پاک ہوتی ہے اور ایک بصیرت اور معرفت جن کو ملتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے امر پاتے ہیں یعنی ما مورالہی۔بادشاہوں کے پاس حکومت ہوتی ہے وہ انتظامی امور میں تو پورا دخل رکھتے ہیں لیکن دینی امور کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔بچے اولوالا مروہی ہیں جن کے اتباع سے معرفت کی آنکھ ملتی ہے اور انسان معصیت سے دور ہوتا ہے۔ان دونوں باتوں کا لحاظ اولوالامر میں رکھو۔اگر کوئی شخص بادشاہ وقت کی بغاوت کرے تو اس کا نتیجہ اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فتنہ کو پسند نہیں کرتا۔اسی طرح پر مامور کی مخالفت کرے تو سلب ایمان ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی مخالفت سے لازم آتا ہے کہ مخالفت کرنے والا خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔سوال پھر اس وقت جو مولوی ہیں کیا اُن کو اولوالا مر سمجھیں؟ جواب : او خویشتن گم است کرا رہبری کند - اصل بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کسی کی آنکھ نہ کھولے آنکھکھلتی نہیں۔ان لوگوں نے دین صرف چند رسوم کا نام سمجھ رکھا ہے حالانکہ دین رسوم کا نام نہیں ہے۔ایک زمانہ وہ ہوتا ہے