فقہ المسیح — Page 335
فقه المسيح 335 حکومت کی اطاعت بہت ہی واضح اور بین وجو ہات کو نظر انداز کر دیا اور مجھ پر جرمانہ کیا۔لیکن آخر جب اس کی اپیل ایک انگریز حاکم کے پاس ہوئی تو اس نے بری کر دیا اور مجسٹریٹ کی کارروائی پر افسوس کیا اور کہا کہ جو مقدمہ اپنے ابتدائی مرحلہ پر خارج ہونے کے قابل تھا اس پر اس قدر وقت ضائع کیا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ابھی تک عدل اور انصاف کا مادہ موجود ہے۔اگر کسی قسم کا مذہبی تعصب یا بغض ہوتا تو کم از کم میرے ساتھ تو ضرور برتا جاتا۔تین لاکھ کے قریب جماعت ہے۔پھر افغانستان کے لوگ بھی آ آ کر بیعت کرتے رہتے ہیں اور ایک نیا فرقہ ہونے کی وجہ سے بھی گورنمنٹ کی نظر اور توجہ اس طرف ہونی چاہیے تھی مگر دیکھ لو کہ قریب آٹھ کے ہمارے مقدمات ہوئے ہیں جن میں سے سوائے ایک دو کے باقی کل مخالفین کی طرف سے ہم پر تھے مگر سب میں کامیابی ہم کو ہی حاصل ہوئی ہے اور انگریزوں نے ہی ہمارے حق میں فیصلے دیئے ہیں اگر چہ ہم ان سب کامیابیوں کو خدا کی طرف سے ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہ نہ چاہتا تو یہ لوگ کیا کرتے ، مگر جن لوگوں کے ذریعہ اور ہاتھوں سے اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوئی وہ بھی قابل شکر کے ہیں۔جہانتک میرا خیال بلکہ یقین ہے وہ یہ ہے کہ ابھی تک ان لوگوں میں تعصب نہیں ہے اور آئندہ کا حال خدا کو معلوم ہے اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں کو خدمت دین ہی مطلوب ہے اور ان کی غرض خدا کو راضی کرنا ہے تو چھپ کر بیٹھ رہنے سے کیا فائدہ؟ ان کو چاہیے کہ خدمت دین کا ایک پہلو ہاتھ میں لیں۔گورنمنٹ کی طرف سے کسی قسم کی سختی ہرگز نہیں ہے۔لوگوں کو تبلیغ اور اتمام حجت کریں یہ خیال بالکل غلط ہے کہ واعظ لوگوں کو گورنمنٹ گرفت کرتی ہے ہر گز نہیں ہاں جو لوگ مفسد ہوتے ہیں وہ ضرور خود ہی گرفت کے قابل ہوتے ہیں۔گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور؟ اب تو عیسویت کا یہ حال ہے کہ اس پر خود بخو دموت آ رہی ہے۔خود اُن کے بڑے بڑے عالم اور فاضل تثلیث کے پکے دشمن ہو گئے ہیں اور نئی تعلیم