فقہ المسیح — Page 337
فقه المسيح 337 حکومت کی اطاعت جبکہ یہ باتیں محض رسم اور عادت کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔یہ لوگ اسی قسم کے ہو رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جن کو نماز اور روزہ سکھایا گیا تھا ان کا اور مذاق تھا۔وہ حقیقت کو لیتے تھے اور اسی لیے جلد مستفیض ہوتے تھے۔پھر مدت کے بعد وہی نماز اور روزہ جو اعلیٰ درجہ کی طہارت اور خدا ترسی کا ذریعہ تھا ایک رسم اور عادت سمجھا گیا۔پس اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اصل امر دین کو جو مغز ہے تلاش کرے۔(الحکم 17 اگست 1905ء صفحہ 6) اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اُس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں کیونکہ وہ ہمارے دینی مقاصد کے حارج نہیں ہیں بلکہ ہم کو ان کے وجود سے بہت آرام ملا ہے۔اولو الامر کی اطاعت ضرورت الامام روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 494،493) قرآن شریف میں حکم ہے اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء : 60) یہاں اولی الامر کی اطاعت کا حکم صاف طور پر موجود ہے اور اگر کوئی شخص کہے کہ منکم میں گورنمنٹ داخل نہیں ، تو یہ اس امر کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے، وہ اسے منکم میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جو شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے حکم مان لینے چاہئیں۔عام طور پر مسلمانوں کے لئے یہ لازم تھا کہ انسداد طاعون کے متعلق شکر گزاری کے میموریل گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجتے ،مگر یہاں بجائے شکر گزاری کے ناشکر گزاری ہو رہی ہے اور کوئی معقول وجہ ناراضگی کی بجز اس کے معلوم نہیں ہوتی